
چینی متن کا 3d ماڈل
آپ کی غزل بہت خوبصورت جذبات رکھتی ہے۔ میں نے املا، ربط اور روانی کو بہتر کرتے ہوئے اسے ترتیب دے دیا ہے، تخلص **“تکمیلؔ”** کے ساتھ: کب چھٹیں گے تنہائیوں کے بادل تھمے گی کب غموں کی برساتیں ضبط ہے آنکھوں پہ اور قبائے حیا ڈوبی ہیں اشکوں میں سبھی راتیں محبت تو نہ مل سکی درِ دلبراں قبول ہمیں ہجر کی جاگتی راتیں تیرے بعد یہ حال ہوا اے خوباں خود سے ہی کرنے لگے تیری باتیں یہ ہجر سفر ہے زمیں سے آسماں کا طویل ہوتی گئیں دن بدن مسافتیں نفرتوں نے تو کچھ نہ بگاڑا ہمارا بس ہم کو تو کھا گئیں چاہتیں لوٹ آنا تھا انہیں بہت پہلے نہ ہی دن کٹے اور نہ ہی راتیں مقدر تھا فنا ہونا ان آنکھوں میں کیسا شکوہ، کیسی شکایتیں مجھے نہیں کوئی پہچانتا دن میں پہچان دے گئیں ہجر کی راتیں مصلوبِ ہجر و درد ہوں، تغافل سجن اسی کے فیصلے، اسی کی عدالتیں یہ جینا ہے کہ مرنا ہے، نہیں معلوم گھٹ رہے ہیں دن، گزر رہی ساعتیں سنا ہے اسے لوٹ کے آنا ہے میرے لیے ہیں امیدیں، دے رہی ہیں بشارتیں ہجرِ یاراں پہ بھاری ہجرِ نینداں آنکھیں ترسیں اور تڑپتی راتیں امتیازِ دن رہا نہ رہی پہچانِ شب چشم بوجھل ہیں، اکتا رہی سماعتیں چل تکمیلؔ ظرف کو اور بڑا کر دردِ ہجر م
4K·PBR·v3.0-20250812









